دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران – ایرانی حکام کے مطابق، افغانستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جس سے افغانستان ایران کا عراق کے بعد دوسرا بڑا اقتصادی شراکت دار بن گیا ہے۔
دوغارون فری ٹریڈ اینڈ انڈسٹریل زون کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق، ایران کی برآمدی اشیاء افغان سرحد کے ذریعے 4 کروڑ آبادی پر مشتمل افغان مارکیٹ تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی 90 فیصد برآمدات صوبہ ہرات کے راستے دوغارون سرحدی گزرگاہ سے افغانستان منتقل ہوتی ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کار محمد نبی افغان نے تولونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ہمارا ایران کے ساتھ تجارتی تعلق یک طرفہ ہے۔ ایران اور خطے کے دیگر ممالک صرف اپنی اشیاء ہمیں بیچنے پر توجہ دیتے ہیں، مگر ہماری مصنوعات خریدنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اگر یہ ممالک واقعی تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو متبادل راستوں کی تلاش کے بجائے براہ راست تجارت کریں۔”
دوسری جانب افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ (ACCI) نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کی برآمدات ایران سے درآمدات کے مقابلے میں نہایت کم ہیں، اور ٹرانزٹ و ٹرانسپورٹ کے مسائل کا حل برآمدات میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔
چیمبر کے بورڈ ممبر خان جان الکوزئی نے بتایا:
"ہمارا ایران سے سالانہ تجارتی حجم 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے — یہ اعداد و شمار درست ہیں۔ ہماری درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں، کیونکہ ایران میں وہ اکثر اشیاء پہلے سے دستیاب ہیں جو ہم برآمد کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوئی سنجیدہ رکاوٹ موجود نہیں، اور ہماری برآمدات 50 ملین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔”
افغان تاجر بھی ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ رکاوٹیں دور ہو جائیں تو ایران افغان اشیاء کے لیے ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔
تاجر امید حیدری نے کہا:
"ہم افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایران سے عملی سطح پر وعدے لے۔ جیسے افغانستان ایران کے لیے ایک مؤثر منڈی ہے، ایران کو بھی افغان برآمدات اور کاشتکاروں کی حمایت کرنی چاہیے، تاکہ ہم نہ صرف ایران کو برآمدات کر سکیں بلکہ اسے ٹرانزٹ روٹ کے طور پر بھی استعمال کریں۔”
افغانستان کی جانب سے ایران کو قیمتی پتھر، کشمش، غیر الکوحل مشروبات، سبزیوں کے بیج، تل، اور ماش کی دال برآمد کی جاتی ہیں، جبکہ ڈیزل، پٹرول، فیکٹریوں کے خام مال، مائع گیس، گاڑیوں کے پرزے، اور مشینری ایران سے درآمد کی جاتی ہے۔

