دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسٹاک ہوم : فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے سویڈن کے دارالحکومت میں سینکڑوں افراد نے ہفتے کے روز اسرائیل کے خلاف احتجاجی مارچ کیا، جس میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ مظاہرین نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری نسل کشی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا:
"فلسطین کو آزاد کرو، غزہ کو آزاد کرو”,
"نسل کشی بند کرو”,
اور
"اسرائیل کا بائیکاٹ کرو”۔
انہوں نے نعرے لگائے:
"غزہ میں بچے قتل کیے جا رہے ہیں”
اور
"فلسطین کو آزادی دو”۔
مظاہرین نے امریکہ پر بھی تنقید کی اور اسے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں شریک جرم قرار دیا، جسے انہوں نے جنگی جرائم میں معاونت کے مترادف قرار دیا۔
انادولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ یہ مظاہرہ سویڈن بھر میں جاری فلسطینیوں سے یکجہتی کی قومی تحریک کا حصہ ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی، غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، اور فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا:
"انصاف اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے لیے صرف الفاظ کافی نہیں، ہمیں ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔”
تھنبرگ نے بتایا کہ اسٹاک ہوم میں گزشتہ دو برسوں سے ہر ہفتے فلسطینی حقوق کی حمایت میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور مظاہرین اُس وقت تک آواز بلند کرتے رہیں گے جب تک امن قائم نہیں ہو جاتا۔
اوروبا ابو حمام، جو اسٹاک ہوم فلسطینی اکیڈمکس کی سربراہ ہیں، نے بھی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے منسوخ کرے اور اس پر اسلحے کی پابندی عائد کرے۔
انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ میں بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے، اور حکومتوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر خوراک کی پابندی ختم کرنے کے لیے اقدام کریں۔

