بدھ, اپریل 8, 2026
ہومبین الاقوامیافغانستان میں غذائی بحران پر اقوامِ متحدہ کی گہری تشویش

افغانستان میں غذائی بحران پر اقوامِ متحدہ کی گہری تشویش
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) کابل :
اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں — ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP)، یونیسیف، یو این ایف پی اے (UNFPA)، خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO)، اور عالمی ادارہ صحت (WHO) — نے افغانستان میں بچوں اور خواتین کو درپیش شدید غذائی قلت کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط عالمی اقدام کی اپیل کی ہے۔

مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان ان 15 ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں میں "wasting” یعنی حد سے زیادہ کمزوری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے 35 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں سے 14 لاکھ کی حالت جان لیوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہر دس میں سے چار افغان خواتین غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

یہ بحران اقتصادی عدم استحکام اور خشک سالی جیسے ماحولیاتی سانحات کی وجہ سے شدید غذائی عدم تحفظ سے جنم لے رہا ہے۔ تقریباً 98 لاکھ افراد کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ 21 لاکھ بچے خوراک کی غربت کا شکار ہیں اور انہیں متوازن و متنوع غذا دستیاب نہیں۔

UNFPA کے افغانستان میں نمائندہ کبابینا اسانتے-انتیامواہ نے کہا کہ اچھی زچگی کے لیے متوازن غذا ناگزیر ہے۔ افغانستان میں بہت سی خواتین حمل کے آغاز ہی سے غذائی قلت کا شکار ہوتی ہیں، جو نہ صرف زچگی میں پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہے بلکہ بچوں میں کم وزنی، نشوونما کی کمی اور ذہنی و جسمانی ترقی میں رکاوٹ بھی پیدا کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ غذائی قلت کی روک تھام اور علاج کے لیے خوراک، صحت، پانی، تعلیم، اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یونیسیف کے نمائندہ تاج الدین اویووالے نے اس بحران کو "عالمی عزم کا امتحان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں بچے جان لیوا غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ بحران ناقص خدمات اور خوراک کی غربت کا نتیجہ ہے۔ آج غذائیت میں سرمایہ کاری دراصل افغانستان کے امن، استحکام اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

اس سے قبل ورلڈ فوڈ پروگرام نے پیش گوئی کی تھی کہ 2025 تک افغانستان میں 35 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوں گے۔

ایجنسی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 12 لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اس وقت غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری طور پر غذائی علاج اور معاونت کی ضرورت ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین