نیدرلینڈز میں اسرائیلی محاصرے اور جنگی پالیسیوں کے خلاف 1.5 لاکھ افراد کا احتجاج
ہیگ، 15 جون (رائٹرز) – اتوار کو نیدرلینڈز میں ہزاروں افراد، جن میں خاندان اور بچے بھی شامل تھے، نے غزہ کے اسرائیلی محاصرے اور ڈچ حکومت کی جنگ سے متعلق پالیسی کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ ایک ماہ میں دوسرا بڑا مظاہرہ تھا جس میں منتظمین کے مطابق تقریباً 1,50,000 افراد نے ہیگ میں شرکت کی۔ مظاہرین نے سرخ لباس پہن کر "سرخ لکیر” کا منظر پیش کیا تاکہ فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جنگی جرائم کے خلاف یکجہتی ظاہر کی جا سکے۔
مظاہرین نے نعرے لگائے، تقاریر کیں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے سامنے سے مارچ کیا، جہاں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل پر نسل کشی کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ عدالت نے گزشتہ سال اسرائیل کو جنوبی غزہ کے شہر رفح پر حملے روکنے اور انسانی امداد کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا۔
اسرائیل جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے حماس جیسے گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے زیر قیادت عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر حملہ کر کے 1,200 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس کے بعد اسرائیل کے فوجی حملوں میں غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق 55,000 سے زائد فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، اور غزہ کا بیشتر علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔
دو ملین سے زیادہ آبادی والے اس علاقے کے اکثر افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور قحط اور غذائی قلت شدید ہو چکی ہے۔
مئی میں ڈچ وزیر خارجہ کاسپر ویلڈکیمپ (عبوری حیثیت میں) نے یورپی یونین سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعاون پر نظرِ ثانی کرے۔
اتوار کے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عبوری حکومت اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر واضح مؤقف اختیار کرے۔
واضح رہے کہ ڈچ حکومت 3 جون کو ختم ہو گئی تھی اور اب عبوری حیثیت میں ہے۔ سابقہ حکومت دائیں بازو کے رہنما گیئرٹ ویلڈرز کی سربراہی میں تھی، جو بار بار اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

