یمن کے انقلابی رہنما سید عبدالملک الحوثی نے اپنے تازہ بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران پر حالیہ صیہونی حملے کے تناظر میں اسلامی دنیا کے خلاف صیہونی و مغربی جارحیت کے وسیع دائرے کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے دشمن کے عزائم کو "شدید، سنجیدہ، تیز رفتار اور مسلسل جاری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد زندگی کے تمام شعبوں میں فساد پھیلانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ دشمن امتِ مسلمہ کی حکومتوں، عوام اور دانشور طبقے کو زیر کرنے، ان سے خودمختاری اور وقار چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سید عبدالملک نے یہود کی فریب کاری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو روشنی اور بھلائی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ مزاحمتی تحریکوں کو "تاریکی اور دہشت گردی” کے القابات دیتے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک نفسیاتی اور اخلاقی حملہ قرار دیا جس کا مقصد امتِ مسلمہ کو کمزور کرنا اور اسے الٰہی نصرت سے کاٹ دینا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی زمین کے دعوے کو اس کی تقدس اور روحانی اہمیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنا فکری اور نفسیاتی زوال کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے یہودی دشمن پر الزام عائد کیا کہ وہ مذہبی زبان کو جرائم اور بدعنوانی کو جائز بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور دوسری جانب امتِ مسلمہ کو مزاحمت کے تمام وسائل سے محروم کرنا چاہتا ہے۔
سید عبدالملک نے واضح کیا کہ صیہونی وجود کے ساتھ اتحاد بذاتِ خود ظلم ہے، اور فلسطینی عوام پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وہ اس ظلم کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "دشمن صرف عسکری برتری کا خواہاں نہیں، بلکہ وہ ہمارے دین اور شناخت کو بھی بدلنا چاہتا ہے تاکہ مکمل تسلط حاصل کر سکے۔”
انہوں نے ایران پر اسرائیلی حملے کو ایک وسیع مغربی مہم کا حصہ قرار دیا، جس کا مقصد ایسے خودمختار ماڈل کو نشانہ بنانا ہے جو فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے اس حملے کو "ظالمانہ، دھونس پر مبنی اور ڈھٹائی سے بھرپور” قرار دیا اور اسرائیل کے دیے گئے جوازوں کو "مکمل طور پر مضحکہ خیز” کہا۔
انہوں نے اسلامی دنیا کے سیاسی، عوامی اور میڈیا حلقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کی حمایت میں کھڑے ہوں، کیونکہ مغرب کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد بالکل واضح اور مسلسل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی طاقتیں ایران کے ردعمل کو محدود کرنے اور اسرائیل کو سزا سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تاہم، سید عبدالملک نے یقین ظاہر کیا کہ ایران کی پوزیشن فوجی، معاشی، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے مضبوط ہے۔ انہوں نے ایران کے اسلامی نظام کی یکجہتی کو سراہا اور کہا کہ یہ جارحیت دراصل ایران کے لیے اسرائیلی دشمن کو شکست دینے اور خطے میں وقار بحال کرنے کا ایک موقع ہے۔
انہوں نے کہا:
"اس محاذ آرائی میں اسلامی جمہوریہ کی فتح فلسطینی کاز کی خدمت کرے گی اور بالخصوص ان عرب ممالک کے لیے فائدہ مند ہو گی جو اسرائیلی عزائم کا نشانہ بن رہے ہیں۔”
سید عبدالملک نے ایران کے جواب دینے کے حق کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا، ایرانی قیادت، عوام اور شہداء سے اظہارِ تعزیت کیا، اور کہا:
"اگر کوئی بھی اسلامی ملک اسرائیل کے خلاف کھڑا ہو، تو پوری امت کی ذمے داری ہے کہ اس کے ساتھ کھڑی ہو۔”
انہوں نے غزہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ یمن کی غیر متزلزل حمایت کو دہرایا، اور واضح کیا کہ یمن اسرائیلی دشمن کے خلاف کھلی جنگ میں ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے راستے پر ثابت قدم ہے۔
بیان کے اختتام پر انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے دوران عرب فضائی حدود کی خلاف ورزی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل ان ممالک کو بھی اپنے صیہونی ایجنڈے کا حصہ اور آئندہ کے اہداف سمجھتا ہے۔ انہوں نے مسلم اُمہ پر زور دیا کہ وہ مزاحمتی توازن کو دوبارہ قائم کرے اور اسرائیل و اس کے حامیوں کی مسلط کردہ بے بسی اور قانون شکنی کو مسترد کرے۔
یاد رہے، اسرائیلی حکومت نے جمعہ کی صبح ایران پر حملہ کیا، جس میں اعلیٰ فوجی قیادت، متعدد فوجی، جوہری اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی فضائی دفاعی نظام نے بیشتر ڈرونز کو تباہ کر دیا، صرف چند ہی دشمن کے دفاع سے گزر سکے۔
اس کے جواب میں ایران نے جمعہ کی رات سے اب تک اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن سے صیہونی ریاست کو شدید نقصان پہنچا ہے.

