بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی میزائل حملوں کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا استعفیٰ

ایرانی میزائل حملوں کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا استعفیٰ
ا

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران صہیونی حکومت کی خفیہ ایجنسی "شین بیت” (Shin Bet) کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نیٹ ورک "آروتز شیوا” کے مطابق، یہ پیش رفت اتوار کی صبح ایک بیان میں سامنے آئی۔ شین بیت کے سربراہ "بار” کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران نے ہفتے کی رات مقبوضہ علاقوں میں اپنی تازہ ترین اور اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جو "سچے وعدے” (True Promise) I اور II سے بھی کہیں زیادہ شدید بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بار کا استعفیٰ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ جاری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ بار نے نیتن یاہو کو تل ابیب کی موجودہ تباہ کن صورتِ حال کا ذمہ دار ٹھہرایا، جس میں ایران کی جانب سے اسرائیلی انٹیلی جنس معاملات میں گہری مداخلت بھی شامل ہے۔

مارچ میں بار نے خبردار کیا تھا کہ "صہیونی ریاست ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے” اور واضح کیا تھا کہ "ایرانی ہاتھ اسرائیل کے اندر تک پہنچ چکا ہے۔”

چند دن قبل ہی ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اسرائیل کی جوہری اور عسکری تنصیبات سے متعلق خفیہ دستاویزات کا ایک وسیع ذخیرہ حاصل کر لیا ہے، جس نے اسرائیلی انٹیلی جنس نظام کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا۔

بار اور نیتن یاہو کے درمیان تناؤ اس وقت شدید ہو گیا جب نیتن یاہو نے مبینہ طور پر بار سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے سیاسی مخالفین اور ان یہودی آبادکاروں کی جاسوسی کریں جو غزہ پر جاری طویل اور مہلک جنگ کی مخالفت کر رہے تھے، حتیٰ کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی قیمت پر بھی۔

اس مطالبے کے بعد بار نے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے آٹھ صفحات پر مشتمل ایک مفصل شکایتی خط متعلقہ قانونی حکام کو جمع کروایا۔

بار کا استعفیٰ اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں نے اسرائیلی ریاست کے اندرونی نظام، خاص طور پر انٹیلی جنس نیٹ ورک، کو غیرمعمولی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین