بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایران پر حملہ پوری امت پر حملہ ہے,الحوثی رہنما کا خطاب

ایران پر حملہ پوری امت پر حملہ ہے,الحوثی رہنما کا خطاب
ا

سید عبدالملک الحوثی کا ایران پر اسرائیلی جارحیت سے متعلق تفصیلی بیان

سید عبدالملک الحوثی نے اپنے بیان میں ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے دراصل مسلم اُمّہ کی آزادی، خودمختاری اور اسلامی شناخت کے خلاف ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادی ان تمام اسلامی ریاستوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو فلسطینی عوام کی عملی مدد کرتی ہیں اور اپنی آزادانہ پالیسیوں پر قائم رہتی ہیں، اور ایران اس سلسلے میں سب سے نمایاں ملک ہے۔

انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو واضح طور پر غنڈہ گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان حملوں میں ایرانی عسکری کمانڈرز، سائنس دان، شہری، اور ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن سے اگر ایران کے پاس زیر زمین حفاظتی نظام نہ ہوتا تو بڑی تابکاری آفت جنم لے سکتی تھی۔ انہوں نے اسرائیل کے پیش کردہ تمام جوازوں کو "بے بنیاد اور جھوٹا” قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز موجود نہیں۔

سید الحوثی نے اسلامی دنیا کے ان ممالک کی جانب سے دیے گئے مذمتی بیانات کو سراہا، جو ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ اسلامی ممالک کو سیاسی، سفارتی اور میڈیا کی سطح پر ایران کی مکمل حمایت کرنی چاہیے اور مغربی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ ان کے مطابق، مغرب کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے؛ وہ ایران کے خلاف حملوں پر خاموش رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی ایران جوابی کارروائی کرتا ہے تو فوری مذمت اور اسرائیل کی پشت پناہی شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایک مضبوط اسلامی ریاست ہے جو عسکری، سائنسی، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے طاقتور ہے۔ اس نے اسرائیل کے خلاف "آپریشن ٹرو پرامس III” کے تحت میزائل حملے کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جوابی کارروائی نہ صرف ایران کے وقار کا مظہر ہے بلکہ پوری مسلم اُمّہ کے لیے فخر اور فتح کی علامت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی مزاحمت مظلوم فلسطینیوں کے لیے ایک امید ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بیشتر عرب حکومتیں اسرائیلی مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ سید الحوثی نے تمام اسلامی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ایران کی پشت پر کھڑے ہوں، کیونکہ ایران پر حملہ دراصل پورے خطے اور امت پر حملے کے مترادف ہے۔ خاموشی دشمن کو مزید شہہ دے گی، جبکہ مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا نہ صرف شرعی فریضہ ہے بلکہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام، شہداء کے خاندانوں اور زخمیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ شہداء کو بلند درجات، زخمیوں کو شفا اور قیدیوں کو رہائی عطا فرمائے۔ انہوں نے پوری امت مسلمہ سے مطالبہ کیا کہ جو بھی مسلم ریاست اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو، اس کی مدد کی جائے، کیونکہ یہ تعاون اسلامی اتحاد اور بقا کے لیے ضروری ہے۔

سید عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ یمن کی فلسطین سے وابستگی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ ان کے مطابق، ایران پر اسرائیلی حملے صرف ایران تک محدود نہیں، بلکہ اردن، شام اور عراق کی فضائی حدود کی کھلی خلاف ورزی کے ذریعے پوری عرب خودمختاری کو پامال کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حق کی مدد فرمائے، باطل کو رسوا کرے اور امت کو عزت اور فتح عطا فرمائے۔
وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین