دانشگاه (نیوز ڈیسک) ریاض / تہران :
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، ہفتے کے روز ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں ولی عہد نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی عسکری کارروائی نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے اور بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
محمد بن سلمان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب ہر قسم کے تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور بات چیت و سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کو ضروری سمجھتا ہے۔
ولی عہد کے یہ بیانات جمعے کو ایران پر ہونے والے اسرائیلی میزائل حملے کے تناظر میں سامنے آئے، جن میں 78 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اعلیٰ عسکری افسران، جوہری سائنس دان اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہفتے کی رات تک جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
محمد بن سلمان نے ایرانی صدر، عوام اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
صدر مسعود پزیشکیان نے اس موقع پر حج کے دوران ایرانی زائرین کی نگہداشت اور ان کی واپسی تک بہترین انتظامات کرنے پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور حکومت سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔
سعودی ولی عہد نے اس کے علاوہ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، اس گفتگو میں محمد بن سلمان نے کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
ادھر، ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ولی عہد کی گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔

