دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران/باکو:
آذربائیجان نے واضح کیا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی تیسرے ملک کے خلاف، بشمول ایران، استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ بیان آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ جیہون بایراموف نے ہفتے کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دیا، جو اسرائیلی جارحیت کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں کی گئی۔
جیہون بایراموف نے ایران کے متعدد فوجی اور عام شہریوں کی شہادت، بالخصوص ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری کی شہادت پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے خطے کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات کا حل صرف بات چیت اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کے مطابق سفارتی ذرائع سے ممکن ہے۔
اسرائیل نے جمعے کی علی الصبح امریکی حمایت سے ایران کے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر حملے کیے، جن میں جوہری تنصیبات، عسکری ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد رہائشی عمارتوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی خواتین و بچوں سمیت عام شہری جاں بحق ہوئے۔
اس حملے کے جواب میں ایران نے "آپریشن سچا وعدہ III” کے تحت قابض فلسطینی علاقوں میں درجنوں مقامات پر سینکڑوں میزائل داغے، جن سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔
ایرانی جنرل بریگیڈیئر احمد وحیدی کے مطابق جوابی کارروائی میں کم از کم 150 اہم اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حساس فوجی اڈے بھی شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی حملوں کو ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ اقدامات عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ایران، اپنے آئینی دفاعی حق کے تحت، اس جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔”
انہوں نے زور دیا کہ جوہری تنصیبات پر حملہ تمام بین الاقوامی خطوطِ سرخ کی خلاف ورزی ہے، اور عالمی برادری کو اس کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔
ایٹمی توانائی تنظیمِ ایران کے ترجمان بہروز کمالوندی کے مطابق، فردو کے یورینیم افزودگی مرکز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جبکہ نطنز میں موجود اہم تنصیب کو صرف معمولی نقصان پہنچا ہے۔
آرمینیا کا مؤقف: فوجی اقدامات سفارت کاری کو نقصان پہنچاتے ہیں
آرمینیا کے وزیرِ خارجہ آرا رَت میر زویان نے بھی وزیرِ خارجہ عراقچی سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور ایران کی علاقائی خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے اور دنیا میں امن کے لیے سفارتی عمل ناگزیر ہے، جبکہ فوجی راستہ اپنانا امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتا ہے۔
عراقچی نے زور دیا کہ تمام ممالک کو اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اقدامات نہ صرف ایران بلکہ عالمی امن کے لیے خطرناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے یہ اقدامات، جو غزہ میں جاری نسل کشی کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں، اس بات میں کوئی شبہ نہیں چھوڑتے کہ یہ حکومت جنگ پسندی اور قانون شکنی کی علامت بن چکی ہے۔

