دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد/مکہ مکرمہ:
وزارتِ مذہبی امور نے تصدیق کی ہے کہ حج 2025 کے دوران سعودی عرب میں 18 پاکستانی عازمینِ حج وفات پا گئے، جن میں 10 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، جاں بحق ہونے والے زیادہ تر افراد ضعیف العمر تھے، اور ان کی اموات کی بنیادی وجوہات دل کا دورہ اور دیگر طبی پیچیدگیاں تھیں۔
تمام پاکستانی عازمین کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ گزشتہ سال حج 2024 کے دوران 35 پاکستانی عازمین کی اموات رپورٹ ہوئی تھیں، جس کے مقابلے میں رواں سال اموات کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔
اس سال مجموعی طور پر 16 لاکھ 73 ہزار 230 عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی، جن میں سے 15 لاکھ 6 ہزار 576 غیر ملکی عازمین 171 ممالک سے آئے۔ سعودی اعداد و شمار کے مطابق، اندرونِ ملک سے بھی 1 لاکھ 66 ہزار 654 عازمین نے حج میں شرکت کی۔ اس سال حج میں مرد و خواتین کی شرکت کا تناسب غیر معمولی حد تک متوازن رہا، جن میں 8 لاکھ 77 ہزار 841 مرد اور 7 لاکھ 95 ہزار 389 خواتین شامل تھیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال شدید گرمی کی لہر کے باعث 1,300 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے پیش نظر سعودی حکام نے اس سال وسیع پیمانے پر حفاظتی اقدامات کیے۔ ان میں سایہ دار آرام گاہیں، ٹھنڈک فراہم کرنے والے مراکز اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی شامل تھی، تاکہ درجہ حرارت میں اضافے (جو 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا) کے اثرات سے بچا جا سکے۔
اس کے علاوہ، بغیر اجازت حج کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائیوں سے رش اور ہجوم میں بھی خاطر خواہ کمی آئی، جس سے مقدس مقامات پر نظم و ضبط اور سیکیورٹی میں بہتری دیکھنے میں آئی۔
حج کا اختتام عید الاضحی کے آغاز کے ساتھ ہوا، جس میں قربانی کی عبادات انجام دی گئیں، جن میں بکروں، گایوں اور اونٹوں کی قربانی شامل ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق، اس سال زیادہ تر بین الاقوامی عازمین ہوائی راستے سے سعودی عرب پہنچے، جن کی تعداد 14 لاکھ 35 ہزار 17 تھی، جبکہ 66 ہزار 465 زمینی اور 5 ہزار 94 سمندری راستے سے آئے۔
حج 2025 کے اختتام پر سعودی حکام نے حجاجِ کرام کی واپسی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد تمام عازمین کی باحفاظت اور منظم واپسی کو یقینی بنانا ہے۔

