امریکہ اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کا ذمے دار قرار دیا گیا
دانشگاه (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حالیہ حملے ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں، جن کے ذریعے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب، امیر سعید ایروانی نے اپنے جامع بیان میں کہا کہ شہری جوہری تنصیبات اور رہائشی عمارتوں پر اسرائیلی حملے، درحقیقت واشنگٹن اور تل ابیب کی منظم عسکری و سیاسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے امریکی انٹیلی جنس، اسلحہ جاتی امداد اور سیاسی پشت پناہی کے ساتھ ایران پر حملہ کیا، جس کا امریکی حکام نے خود بھی اعتراف کیا ہے۔ یہ تمام ہتھیار جان بوجھ کر فراہم کیے گئے، جن کا استعمال ایرانی شہریوں کے خلاف ہوا۔
ایروانی کے مطابق یہ کارروائی محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک دانستہ، منظم اور مہلک مہم تھی جس کا مقصد ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانا، خطے میں امن کو تہہ و بالا کرنا اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ نطنز کا جوہری مرکز، جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی مکمل نگرانی میں ہے، حملوں کا بنیادی ہدف رہا، جس سے پورے خطے کو "تباہ کن تابکاری نتائج” کے خطرے سے دوچار کر دیا گیا۔
ایرانی مندوب کے مطابق ان حملوں میں 100 سے زائد شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین، بچوں اور دیگر غیر عسکری افراد کی تھی۔ انہوں نے ان حملوں کو "منظم نسل کشی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔
اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایروانی نے کہا: "عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی نے اسرائیل جیسے قانون شکن ریاست کو مزید جارحانہ اقدامات پر اکسایا ہے۔”
انہوں نے 1981 میں عراق کے اوسیرک ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے کے بعد منظور کی گئی قرارداد 487 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی "طویل مدتی بے عملی اور دہرا معیار آج بھی برقرار ہے۔”
ایروانی نے مزید بتایا کہ عراق نے بھی اسرائیلی طیاروں کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر رسمی احتجاج درج کرایا ہے، جو علاقائی خودمختاری کی سنگین پامالی ہے۔
"واشنگٹن اس تباہی کا مکمل طور پر ذمے دار ہے”
ایرانی مندوب نے سخت لہجے میں کہا کہ جو قوتیں اسرائیل کی حمایت کر رہی ہیں، خصوصاً امریکہ، انہیں اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ ان جرائم میں برابر کی شریک ہیں۔ یہ محض خاموش حمایت نہیں، بلکہ عملی معاونت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ حملے کسی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کا تسلسل ہیں، جس کا مقصد سفارت کاری کا گلا گھونٹنا اور خطے کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھنا ہے۔
ایروانی نے کہا کہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا مؤثر اور متناسب جواب دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے دفاعی حق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ ایران اس حملے کا فیصلہ کن جواب دے گا — وقت، مقام اور طریقہ کار کا تعین ایران خود کرے گا۔ یہ ردِعمل ناگزیر ہے تاکہ بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کی بقا ممکن ہو سکے۔

