منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی دفتر خارجہ: اسرائیلی جارحیت نے مذاکرات کا امکان ختم کر دیا

ایرانی دفتر خارجہ: اسرائیلی جارحیت نے مذاکرات کا امکان ختم کر دیا
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران — ایرانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی حالیہ جارحیت نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی راہ مکمل طور پر بند کر دی ہے، کیونکہ صہیونی ریاست نے ایران کی تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔

ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان علی رضا بَغائی نے کہا کہ تہران کو توقع ہے کہ تمام ذمہ دار ممالک اس "سفاکانہ جرم” کی بھرپور مذمت کریں گے، جس کے دوران اسرائیلی افواج نے ایران کے شہری نیوکلیئر مراکز اور رہائشی علاقوں پر حملے کیے۔

انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر اس معاملے میں واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور اسرائیلی ریاست کے جارحانہ اقدامات سے نمٹنے کے لیے ضروری میکانزم تشکیل دیے جانے چاہییں۔

بغائی نے کہا کہ دوسری جانب [امریکہ] نے وہ کچھ کیا ہے جس کی موجودگی میں مذاکرات کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ آپ ایک جانب بات چیت کا دعویٰ کریں، اور دوسری جانب ایک نسل کش ریاست کو ایران کی علاقائی سالمیت پر حملے کا موقع دیں، یہ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تصور ہی ناقابل فہم ہے کہ اسرائیلی ریاست نے یہ جرم امریکی منظوری کے بغیر کیا ہو۔

ایرانی ترجمان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ صہیونی حکومت ہمیشہ مغربی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں الجھانے کی کوشش کرتی رہی ہے، اور بظاہر اس بار بھی وہ سفارتی عمل پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

جمعے کے روز، 13 جون کو اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی، جسے خطے میں کشیدگی کا ایک نیا اور خطرناک باب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے نے نہ صرف ایران کی شہری نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا بلکہ رہائشی عمارتوں، سینئر ایٹمی سائنس دانوں اور اعلیٰ فوجی حکام کو بھی ہدف بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران اور امریکہ اتوار کو عمان میں جوہری معاہدے پر بالواسطہ مذاکرات کے چھٹے دور میں شریک ہونے والے تھے۔ اگرچہ ایران نے باضابطہ طور پر مذاکرات سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا، تاہم موجودہ حالات میں ایرانی وفد کے مذاکرات کی میز پر پہنچنے کے امکانات انتہائی کم نظر آتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین