منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرجب میزائل تنہا ہوتے ہیں: ایران، جنگ کا فن، اور تل ابیب...

جب میزائل تنہا ہوتے ہیں: ایران، جنگ کا فن، اور تل ابیب کی فصیلوں سے آگے کی کہانی!
ج


تحریر : بلال شوکت آزاد

کبھی کبھی ایک میزائل صرف ایک میزائل نہیں ہوتا۔ وہ پوری امت کی بے بسی کا نوحہ بھی ہوتا ہے، اور غیرت کی بچی کچی سانس بھی۔ وہ صرف ایندھن، دھات اور ٹارگٹنگ کا نظام نہیں ہوتا، بلکہ اس قوم کے حوصلے کا وہ پرچم بردار ہوتا ہے جسے ہر طرف سے توڑنے کی کوشش کی گئی ہو۔ ایران جب اپنے اصفہان کے لانچر سے بیلسٹک میزائل داغتا ہے، تو وہ صرف ایک ہتھیار نہیں چھوڑتا؛ وہ اپنی آزادی، اپنی خودمختاری اور اپنی بقا کے امکان کو خلا میں بھیج دیتا ہے۔

لیکن وہ خلا، خلا نہیں۔ وہ تو اب امریکی ہتھیاروں کا جنگل ہے۔ اس خلا میں سب سے پہلے عراق میں موجود امریکی سینٹکام کا سسٹم جھپٹتا ہے۔ یو اے ای میں کھڑے فرانس کے رافیل طیارے حملہ آور ہوتے ہیں، جنہیں سعودی فضائی حدود دستیاب ہوتی ہے۔ خلیج فارس میں پہرہ دیتا USS Carl Vinson، وہ طیارہ بردار جہاز، جس کی چھت پر کھڑے جدید ترین F-35B اور میزائل ڈسٹرائرز ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں، وہ بھی اصفہان سے نکلنے والے ہر میزائل کو اپنے دائرے میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ محض دفاع نہیں، یہ جنگ کا عالمی کلب ہے جو ایک "تنہا اسلامی میزائل” کے خلاف متحد ہے۔

اور یہیں سے وہ بات شروع ہوتی ہے جو ہمیں سمجھنے سے روک دی گئی ہے: ایران کا دشمن صرف اسرائیل نہیں، اسرائیل کے ساتھ کھڑا پورا نیٹو نیٹ ورک ہے۔

اردن کی فضائیہ، اردن میں تعینات امریکی یونٹ، قبرص سے اڑتے برطانوی ٹائفون اور F-35 طیارے—یہ سب اس ایک میزائل کے پیچھے جھپٹتے ہیں، جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے پر پتھر پھینک دیا گیا ہو۔ پھر آتا ہے Arrow 3، جو دو ہزار کلومیٹر دور سے خلائی فضا میں میزائل کا استقبال کرتا ہے۔ اگر وہ چکما دے دے، تو Arrow 2، جو 1500 سے 500 کلومیٹر کے دائرے میں نشانہ لیتا ہے، فعال ہو جاتا ہے۔

یہ صرف میزائل کا تعاقب نہیں، یہ اسلامی غیرت کا تعاقب ہے۔ یہ اس خواب کا تعاقب ہے جو اسرائیل کے نقشے پر تھوڑی سی سیاہی پھیر سکتا ہے۔

مگر ایران کا میزائل ابھی مرا نہیں۔ اب آتا ہے David’s Sling، جو اسے 300 کلومیٹر سے 40 کلومیٹر تک پیچھا کرتا ہے۔ اور پھر آخر میں Iron Dome، جس کی کامیابی کی شہرت پوری دنیا میں گونجتی ہے، جو صرف 70 سے 4 کلومیٹر کے اندر موجود ٹارگٹ کو روکتا ہے۔ اگر ایرانی میزائل ان تمام پرتوں، تمام گولوں، تمام فصیلوں کو چیر کر تل ابیب کو چوم لے، تو یہ محض ایک وار نہیں—یہ پورے مغرب پر تھپڑ ہے۔

جنگ کبھی صرف لاشوں کا کھیل نہیں ہوتی۔ جنگ کبھی صرف "کس کے زیادہ مرے” کا حساب نہیں ہوتی۔ جنگ ایک بیانیے کا نام ہے، ایک ڈٹ جانے کا نام ہے، ایک احساسِ وجود کا نام ہے۔

اور یہی وہ نکتہ ہے جو ہمارے اپنے ہی لوگ نہیں سمجھ پاتے۔ وہ فیس بُک کے دانشور، جو جنگ کو کرکٹ میچ سمجھتے ہیں۔ جو ہر میزائل کے بعد اس کی ری پلے چلاتے ہیں:

"یہ لگا یا نہیں؟”

"یہ گرایا گیا یا بچ گیا؟”

"کتنے مرے؟ کس طرف سے؟”

ارے بھائیو! تم اگر واقعی جنگی عقل رکھتے ہو تو آگے بڑھو، ایران کو حکمتِ عملی دو، اسے سٹریٹیجی سکھاؤ۔ مگر سچ یہ ہے کہ تم نہ "نواز شریف” ہو، نہ جرنیل؛ تم صرف مسلکی تبصرہ نگار ہو، جنہیں یہ جنگ صرف اس زاویے سے نظر آتی ہے کہ حملہ آور کون ہے اور مرنے والا کون ہے۔

سوال یہ نہیں کہ ایران نے اسرائیل کو کتنا نقصان پہنچایا،
سوال یہ ہے کہ وہ اس پورے نظامِ جہان کے خلاف اپنے پیروں پر کھڑا ہے یا نہیں؟
سوال یہ ہے کہ وہ عربوں کی غلامی سے الگ، اپنی راہ چلنے کی جرأت رکھتا ہے یا نہیں؟
سوال یہ ہے کہ وہ امریکہ، اسرائیل، فرانس، برطانیہ، سعودی عرب، اردن، قبرص، خلیج کی بادشاہیوں—سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا ہے کہ "میں ہوں” یا نہیں؟

اور اگر ہے، تو پھر تم کون ہوتے ہو اسے طعنے دینے والے؟

تم وہی ہو جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بھی تبصرہ کرتے تھے کہ:

"کیا فائدہ؟ نہ پیٹ بھرے گا، نہ دشمن ڈرے گا”۔

آج اگر ایران اکیلا، مکمل عالمی ڈیفنس بلاک کے خلاف بیلسٹک میزائل چھوڑ رہا ہے اور وہ میزائل ایک آدھ گھر، ایک فوجی تنصیب یا ایک ایئربیس کو بھی ہلا دے، تو یہ تمہارے پورے فکری نظام کی ہار ہے۔

یہ جنگ چالیس لاشوں کی نہیں، یہ چار اصولوں کی ہے:

  1. دشمن کو بتا دینا کہ تم زندہ ہو۔
  2. اتحادیوں کو بتا دینا کہ تم بکتے نہیں ہو۔
  3. اپنوں کو بتا دینا کہ غیرت ابھی باقی ہے۔
  4. اور دنیا کو دکھا دینا کہ "اسلام صرف امن کی تلقین نہیں کرتا، عزت سے جینے کا نام بھی ہے”۔

اسرائیل نے شاید کم نقصان اٹھایا ہو، مگر ایران نے پیغام دے دیا کہ اگر تم نے ہمیں مارا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ یہی پیغام ہزار میزائلوں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہی پیغام جنگ کے لیے پہلا اصول ہوتا ہے۔

اس لیے اگر ایران کے میزائل ان تمام سسٹمز سے بچ نکل کر تل ابیب کی مٹی کو چوم لیں، تو سمجھو صرف ہدف نہیں، تاریخ کو بھی نشانہ لگا ہے۔

اور اگر تم اس نشانے کا مذاق اڑا رہے ہو، تو یقین جانو، تم میزائلوں سے نہیں، مزاج سے ہار چکے ہو۔

جو جنگوں کو لاشوں سے نہیں، ارادوں سے جانچتا ہے، اور غیرت کو شکست نہیں مانتا—چاہے وہ کتنا ہی زخمی کیوں نہ ہو—وہی غیرتمند اور بہادر کہلاتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین