سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گالانٹ نے تسلیم کیا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی جنگ کے دوران ہنیبال ہدایت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ان کے قید میں موجود کئی افراد کو ہلاک کیا گیا۔
سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گالانٹ نے یہ تسلیم کیا کہ اسرائیلی فوج کو ہنیبال ہدایت پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا—یہ ایک متنازعہ پروٹوکول ہے جس کے تحت قیدیوں اور ان کے قابضین کو مارنے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے—غزہ کی جنگ کے دوران۔
گالانٹ نے سابق اسرائیلی وزیرِ پولیس ایتامار بن-گویر کی الاقصیٰ مسجد پر اشتعال انگیز حملے کی بھی مذمت کی، اور کہا کہ اس سے "صورتحال کو مزید بگاڑ دیا”۔
اسرائیلی فوج کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے والے فوجی افسروں کی لہر کا سامنا ہے۔ اسرائیلی چینل 13 نے اس صورتحال کو فوج میں "ایک جھٹکے” کے طور پر بیان کیا ہے۔
اسرائیل کے فوجی چیف، لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہلیوی نے 21 جنوری کو اپنی استعفیٰ کا اعلان کیا، اور کہا کہ وہ فوج کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے رہے ہیں، جو کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمت کی کارروائی کے دوران سامنے آئی تھی۔ فوج کے ذریعے جاری کردہ استعفیٰ کے خط میں ہلیوی نے کہا کہ وہ "7 اکتوبر کو فوج کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کے باعث استعفیٰ دے رہے ہیں”۔ ہلیوی کا استعفیٰ اور اس کی وجوہات
لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہلیوی نے اپنی استعفیٰ کے دوران کہا کہ ان کا استعفیٰ "اہم کامیابیوں” کے باوجود آیا ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جنگ کے تمام مقاصد مکمل نہیں ہو پائے تھے۔
جنرل یارون فینکل مین، جو اسرائیل کے جنوبی فوجی کمانڈر ہیں اور غزہ کی نگرانی کرتے ہیں، نے بھی استعفیٰ دے دیا۔
ہلیوی نے اپنے استعفیٰ کے بعد ٹیلیویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کو 7 اکتوبر کی ناکامی کا جواب دینا ہوگا اور اس سے سیکھنا ہوگا۔
گالانٹ کا عہدے سے برطرف ہونا
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے نومبر میں وزیرِ دفاع یوآو گالانٹ کو برطرف کر دیا تھا، جس کی وجہ غزہ کی جنگ کے دوران اعتماد کا ٹوٹنا تھا۔
ایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ گالانٹ کے ساتھ اس کے درمیان حالیہ دنوں میں اسٹرٹیجک اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پچھلے ماہ اسرائیلی میڈیا نے خبر دی تھی کہ نیتن یاہو گالانٹ کو برطرف کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کیونکہ گالانٹ نے لبنان پر حملے میں رکاوٹ ڈالی تھی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کے دوران وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع کے درمیان مکمل اعتماد بہت ضروری ہے، اور بدقسمتی سے یہ اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلافات نہ صرف غیر قابلِ قبول طریقے سے عوامی ہو گئے بلکہ ان کا فائدہ اسرائیل کے مخالفین نے بھی اٹھایا۔